Kitab Markaz
Qaid‑e‑Farang - قید فرنگ: مولانا ظفر علی خان
Qaid‑e‑Farang - قید فرنگ: مولانا ظفر علی خان
Couldn't load pickup availability
وہ قلم جس نے انگریز کے غرور کو پاش پاش کر دیا - اور وہ قید جس نے اس قلم کو مزید تیز کر دیا۔ مولانا ظفر علی خان کی انقلابی جدوجہد کی داستان، ان کے شاگرد اور جانشین آغا شورش کاشمیری کی زبانی۔
یہ کتاب مولانا ظفر علی خان - اردو صحافت کے امام، شاعر اور مجاہدِ آزادی - کی انگریزوں کی قید و بند میں گزری ہوئی زندگی کا احوال ہے۔ آغا شورش کاشمیری، جو خود مولانا کے تربیت یافتہ اور ان کے اخبار زمیندار کے شاگرد تھے، نے اس میں وہ سب کچھ لکھا ہے جو انہوں نے اپنے مرشد کے بارے میں دیکھا اور سنا۔
کتاب میں جیلوں کی سختیاں، مولانا کا پائے استقلال، اور ان کے وہ اشعار شامل ہیں جو انہوں نے قید کی تنہائیوں میں لکھے۔ یہ محض سوانح نہیں - یہ ایک عہد کی شہادت ہے۔
Why We Love It:
یہ کتاب شورش کاشمیری کی اپنے مرشد سے عقیدت کا شاہکار ہے۔ ہمیں اس میں سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ شورش نے مولانا ظفر علی خان کو محض ایک سیاستدان کے طور پر نہیں بلکہ ایک شاعر، صحافی اور درویش کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کی تحریر میں وہی گھن گرج ہے جو مولانا کے قلم میں تھی۔ یہ کتاب ہر اس قاری کے لیے لازمی ہے جو اردو صحافت کی تاریخ اور تحریکِ آزادی کے مجاہدوں کو قریب سے جاننا چاہتا ہے۔
About the Author:
آغا شورش کاشمیری (1917–1975) اردو کے ممتاز صحافی، خطیب، مصنف اور تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے۔ وہ مجلسِ احرارِ اسلام کے رہنما رہے اور تحریکِ ختم نبوت کے دوران کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کی تحریروں میں جوش، وضاحت اور ادبی خوبی نمایاں ہے۔
Shipping & Returns
Shipping & Returns
Delivery all over Pakistan, Delivery time 4-5 days maximum, if you require any further questions or help your can contact us 0323-4400940
