Skip to product information
1 of 1

Kitab Markaz

Muqadma Shair O Shairi - مقدمہ شعر و شاعری

Muqadma Shair O Shairi - مقدمہ شعر و شاعری

Regular price Rs.500.00 PKR
Regular price Rs.700.00 PKR Sale price Rs.500.00 PKR
28% OFF Sold out
Shipping calculated at checkout.

اردو تنقید کا وہ اولین باب جس نے شاعری کی نئی راہیں دکھائیں۔ حالی نے روایتی غزل کی نازک خیالیوں کو چیلنج کیا اور سادہ، اصلی اور پرجوش شاعری کا سلیقہ سکھایا۔

مقدمہ شعر و شاعری اردو زبان کی پہلی باقاعدہ تنقیدی کتاب ہے، جسے مولانا الطاف حسین حالی نے لکھا۔ یہ 1893ء میں دیوانِ حالی کے مقدمے کے طور پر شائع ہوئی اور اردو ادب میں سنگ میل ثابت ہوئی۔

حالی نے اس میں شاعری کی تعریف، اقسام، اور جدید معیارات پر بحث کی۔ انہوں نے "فطری شاعری" پر زور دیا — جس میں سادگی، اصلیت اور جوش ہو۔ انہوں نے روایتی غزل کی فرسودہ مضامین اور نازک خیالی پر سخت تنقید کی۔ شاعری کے لیے ان کے تین اصول - اصلیت، سادگی، جوش - آج بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ کتاب اردو کے طلبہ اور محققین کے لیے لازمی ہے۔

Why We Love It:
یہ کتاب اردو تنقید کی بنیاد ہے۔ حالی نے جس بے باکی اور علمی بصیرت سے روایتی شاعری کا محاسبہ کیا، اس نے اردو ادب کو نئی سمت دی۔ ہمیں اس میں سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ یہ نہ صرف تنقیدی اصول بتاتی ہے بلکہ ایک ادیب کی ذمہ داری بھی واضح کرتی ہے۔ ڈاکٹر علی محمد خان کے حواشی اور تحقیق نے اسے مزید مستند بنا دیا ہے۔ ہر اردو طالب علم، استاد اور محقق کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی سرمایہ ہے۔

About the Author & Editor:
شمس العلماء خواجہ الطاف حسین حالی (1837–1914) اردو کے عظیم شاعر، نقاد اور مصلح تھے۔ انہوں نے جدید اردو تنقید کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر علی محمد خان ایک معروف محقق اور مرتب ہیں جنہوں نے اس نئے ایڈیشن کو حواشی اور اضافوں کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔

مقدمہ شعر و شاعری اب کتاب مرکز پر دستیاب ہے۔ ہم پوری پاکستان اور دنیا بھر میں ڈیلیوری کرتے ہیں - تاکہ اردو تنقید کا یہ اولین اور بنیادی سرمایہ آپ تک پہنچ سکے، آپ جہاں بھی ہوں۔

Shipping & Returns

Delivery all over Pakistan, Delivery time 4-5 days maximum, if you require any further questions or help your can contact us 0323-4400940

View full details