Kitab Markaz
Mirat ul Asrar - مرآۃ الاسرار
Mirat ul Asrar - مرآۃ الاسرار
Couldn't load pickup availability
کتاب "مرآۃ الاسرار" (اسرار کا آئینہ) تصوف کی تاریخ اور تذکرہ نگاری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کے اصل مصنف حضرت شیخ عبدالرحمن چشتی (متوفی 1653ء) ہیں، جبکہ اس کا اردو ترجمہ اور تحقیق کیپٹن واحد بخش سیال ربانی نے کی ہے، جو خود تصوف کے میدان میں ایک معتبر نام ہیں۔
:ذیل میں اس کتاب کا جامع تعارف اور تفصیل درج ہے
کتاب کا مرکزی موضوع
یہ کتاب بنیادی طور پر تذکرہ اولیاء ہے۔ اس میں اسلام کی پہلی صدی سے لے کر گیارہویں صدی ہجری تک کے تمام بڑے سلاسلِ تصوف (بالخصوص سلسلہ چشتیہ صابریہ) کے مشائخ، ابدال اور اولیاء اللہ کے حالاتِ زندگی اور ان کی تعلیمات کو یکجا کیا گیا ہے۔
:نمایاں خصوصیات
- جامعیت: اس میں عہدِ رسالت ﷺ سے لے کر گیارہویں صدی ہجری تک کے تقریباً 1000 سالہ صوفیانہ دور کا احاطہ کیا گیا ہے۔
- سلسلہ وار ترتیب: کتاب میں مشائخ کے حالات کو ان کے روحانی سلاسل اور زمانوں کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے، جس سے تصوف کی تدریجی ترقی کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
- شرعی حیثیت کا دفاع: شیخ عبدالرحمن چشتی نے اس کتاب کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ تصوف محض چند رسومات کا نام نہیں بلکہ یہ عین قرآن و سنت کے مطابق تزکیہ نفس کا راستہ ہے۔
- تاریخی حوالہ: یہ کتاب برصغیر کے چشتیہ صابریہ مشائخ کے بارے میں معلومات کا مستند ترین ذریعہ مانی جاتی ہے۔
:کیپٹن واحد بخش سیال کی خدمت
اس کتاب کی موجودہ مقبولیت میں کیپٹن واحد بخش سیال کا بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے
- برٹش میوزیم سے اس کا قدیم قلمی نسخہ حاصل کیا۔
- فارسی سے سلیس اور رواں اردو ترجمہ کیا۔
- مشکل اصطلاحات کی وضاحت کے لیے حواشی (نوٹس) لکھے تاکہ عام قاری بھی تصوف کے دقیق مسائل سمجھ سکے۔
Shipping & Returns
Shipping & Returns
Delivery all over Pakistan, Delivery time 4-5 days maximum, if you require any further questions or help your can contact us 0323-4400940
