Kitab Markaz
Hameed Nizami Marhoom - حمید نظامی مرحوم
Hameed Nizami Marhoom - حمید نظامی مرحوم
Couldn't load pickup availability
صحافت کی تاریخ میں حمید نظامی ایک عہد ہیں۔ ان کی وفات پر آغا شورش کاشمیری نے وہ لکھا جو صرف دوست ہی لکھ سکتا ہے - عقیدت، وفا اور اس قلم کی بے باکی کی داستان جس نے پاکستان بنانے میں آخری قطرہ لگا دیا۔
یہ کتاب تحریکِ پاکستان کے عظیم صحافی، نوائے وقت کے بانی حمید نظامی کی وفات (1962ء) کے بعد آغا شورش کاشمیری نے لکھی۔ شورش اور نظامی کی دوستی محض ذاتی نہیں تھی - یہ ایک نظریاتی رفاقت تھی جو قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں پروان چڑھی۔
کتاب میں حمید نظامی کی صحافتی خدمات، اصول پسندی، بے باکی، اور جابر حکمرانوں کے سامنے ڈٹ جانے کی صفت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ شورش نے ان کی زندگی کو محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک “عہد” کے طور پر پیش کیا ہے - جس میں نوائے وقت کی بنیاد سے لے کر ان کی ناگہانی وفات تک کا سفر شامل ہے۔
Why We Love It:
یہ کتاب صحافت کے شوقین ہو یا تحریکِ پاکستان کا مطالعہ - ہر کسی کے لیے قیمتی اثاثہ ہے۔ شورش کا خطیبانہ اسلوب اور ادبی چاشنی اسے محض سوانح نہیں بلکہ ایک جذباتی سفر بناتی ہے۔ ہمیں اس میں سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ یہ حمید نظامی کو قاری کے سامنے زندہ کر دیتی ہے - ان کی درویشی، مضبوطی اور بے خوفی۔ یہ اردو ادب کا وہ موتی ہے جو کسی بھی لائبریری کی رونق بڑھاتا ہے۔
About the Author:
آغا شورش کاشمیری (1917–1975) اردو کے ممتاز صحافی، خطیب، مصنف اور تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے۔ ان کی تحریروں میں جوش، وضاحت اور ادبی خوبی نمایاں ہے۔ وہ چٹان اور دیگر اخبارات سے وابستہ رہے اور اردو صحافت میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔
Shipping & Returns
Shipping & Returns
Delivery all over Pakistan, Delivery time 4-5 days maximum, if you require any further questions or help your can contact us 0323-4400940
