Kitab Markaz
Cheh Qalandarana Guftam - چہ قلندرانہ گفتم
Cheh Qalandarana Guftam - چہ قلندرانہ گفتم
Couldn't load pickup availability
وہ خطیب جس کی آواز سے مجمع کانپتا تھا - اب وہی آواز شاعری کے قالب میں ہے۔ قید و بند کے اندھیروں میں لکھے گئے یہ اشعار شورش کاشمیری کی قلندرانہ بے باکی کا آئینہ ہیں۔
چہ قلندرانہ گفتم آغا شورش کاشمیری کی شاعری کا وہ مجموعہ ہے جس میں ان کا انقلابی جذبہ، عشقِ رسولﷺ اور اردو شاعری کا لازوال فن یکجا ہیں۔
کتاب کا عنوان ہی اس کے مزاج کو بتاتا ہے - یہ ایک قلندر کی وہ بات ہے جو بے باکی سے کہی گئی۔ شورش نے اس میں جابر حکمرانوں کو للکارا ہے، مسلمانوں کے اتحاد کا پیغام دیا ہے، اور حضورﷺ کی محبت کو اشعار کا مرکز بنایا ہے۔
یہ وہ کلام ہے جو قید کی صعوبتوں کے دوران لکھا گیا، جہاں ہر شعر میں وہی گھن گرج ہے جو ان کی مشہور تقریروں میں تھی۔
Why We Love It:
شورش کاشمیری کو ہم خطیب اور صحافی کے طور پر جانتے ہیں - لیکن یہ کتاب ان کے اندر چھپے ہوئے شاعر کو سامنے لاتی ہے۔ ہمیں اس میں سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ ان کی شاعری میں وہی نڈر پن ہے جو ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ عشقِ رسولﷺ اور قومی بیداری کے یہ اشعار پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی مقتدر خطیب کے سامنے بیٹھا ہے۔ یہ کتاب ہر اس قاری کے لیے ہے جو اردو شاعری کے اس نادر خزانے سے فیض یاب ہونا چاہے۔
About the Author:
آغا شورش کاشمیری (1917–1975) اردو کے ممتاز صحافی، خطیب، مصنف اور تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے۔ وہ مجلسِ احرارِ اسلام کے رہنما رہے اور تحریکِ ختم نبوت کے دوران کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کی تحریروں میں جوش، وضاحت اور ادبی خوبی نمایاں ہے۔
Shipping & Returns
Shipping & Returns
Delivery all over Pakistan, Delivery time 4-5 days maximum, if you require any further questions or help your can contact us 0323-4400940
