Skip to product information
1 of 1

Kitab Markaz

Chalta Purza (Lazarillo de Tormes) Urdu Translation

Chalta Purza (Lazarillo de Tormes) Urdu Translation

Regular price Rs.360.00 PKR
Regular price Rs.400.00 PKR Sale price Rs.360.00 PKR
10% OFF Sold out
Shipping calculated at checkout.
Pages: 87

کبھی سوچا ہے کہ جب معاشرے کا ہر دروازہ بند ہو، ہر ہاتھ تمہیں دھکا دے، تب بھی زندہ رہنا ممکن ہے؟ یہ ناول ایسے ہی ایک لڑکے کی کہانی ہے جو بھوک کو فنی مہارت میں بدل دیتا ہے۔

چلتا پرزہ دراصل سولہویں صدی کے سپین کا وہ انقلابی ناول ہے جس نے یورپی ادب کی بنیادیں ہلا دیں۔ اس کا مصنف آج تک نامعلوم ہے—اور وجہ بھی واضح ہے: اس ناول نے کلیسا کے نام پر لوٹنے والے پادریوں کے نقاب اتارے، شرافت کے دعویداروں کی حقیقت بے نقاب کی، اور اس معاشرے کا آئینہ دکھایا جس نے غریب کو جینے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا .

کہانی شروع ہوتی ہے ایک بچے سے - لاثاریو جو دریائے تورمیز کے کنارے پیدا ہوا۔ اس کی ماں، جو خود اس کی کفالت سے عاجز تھی، اسے ایک اندھے فقیر کے حوالے کر دیتی ہے۔ اندھا بھکاری بظاہر معصوم بچے کو لے کر نکلتا ہے، لیکن جلد ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ "معصوم بچہ" دراصل چلتا پرزہ ہے - ایسا شخص جو چالاکی میں اپنے مالکوں سے بھی آگے نکل جائے .

:لاثاریو کے ساتھ ساتھ آپ گزرتے ہیں

  • ایک اندھے بھکاری کے ساتھ، جو بھیک کے پیسوں پر خود عیش کرتا ہے لیکن بچے کو بھوکا رکھتا ہے
  • ایک کنجوس پادری کے پاس، جو روٹی کو تالے میں بند رکھتا ہے
  • ایک مفلس شریف آدمی کے ہاں، جس کے پاس دولت کا دعویٰ تو ہے لیکن کھانا کھانے کو نہیں
  • ایک جعلی مولوی کے پاس، جو لوگوں کو دھوکہ دے کر پیسے کماتا ہے

ہر مالک لاثاریو کو استعمال کرنا چاہتا ہے، اور ہر بار لاثاریو اپنی ذہانت سے نہ صرف بچ جاتا ہے بلکہ قاری کو ہنساتا بھی ہے۔

یہ ناول صرف ایک بچے کی کہانی نہیں—یہ اس معاشرے کی تاریخ ہے جہاں طاقت ور کمزور کو کچل دیتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ اشاعت کے صرف پانچ سال بعد، اسپین کی انکویزیشن نے اس ناول پر پابندی لگا دی۔ لیکن اس وقت تک یہ فرانسیسی، انگریزی، جرمن اور اطالوی میں ترجمہ ہو چکا تھا . سچ کو دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔

محمد سلیم الرحمن کا نام اردو ترجمے کی تاریخ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ان چند مترجمین میں سے ہیں جن کے تراجم اصل سے بھی زیادہ جاندار ہوتے ہیں . اس ناول میں انہوں نے زبان کو اس طرح استعمال کیا ہے کہ آپ بھول جائیں گے کہ یہ کسی اور زبان میں لکھا گیا تھا۔ محاورے، انداز، مکالمے—سب اتنے فطری ہیں جیسے یہ کہانی اردو میں ہی لکھی گئی ہو .

قارئین لکھتے ہیں کہ "سلیم صاحب کے تراجم کی خوبی یہ ہے کہ آپ کو کبھی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ ترجمہ ہے۔ وہ اتنی خوبصورتی سے ترجمہ کرتے ہیں کہ آپ حیران رہ جاتے ہیں" . ایک اور قاری کا کہنا ہے کہ "یہ مختصر سا ناول سو صفحات سے بھی کم ہے اور ایک ہی نشست میں ختم ہو جاتا ہے" .

پاکستانی قاری کے لیے یہ کتاب اس لیے اہم ہے کہ یہ دکھاتی ہے کہ انسان بھوکا ہونے کے باوجود کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ ہنساتی ہے، سوچنے پر مجبور کرتی ہے، اور آخر میں ایک ایسا آئینہ دکھاتی ہے جس میں آج کا پاکستان بھی جھلکتا نظر آتا ہے۔ وہی پادری جو دین کے نام پر لوٹتے ہیں۔ وہی شرافت کے دعویدار جو جیب میں پیسہ نہیں رکھتے۔ وہی بھکاری جو بچوں کو استعمال کرتے ہیں۔ کچھ بھی نہیں بدلا - صرف زبانیں بدل گئیں

Format: Paperback

Shipping & Returns

Delivery all over Pakistan, Delivery time 4-5 days maximum, if you require any further questions or help your can contact us 0323-4400940

View full details